کلام محمود — Page 56
04 ہائے وہ دل کہ جسے طرز وفا یاد نہیں وائے وہ رُوح جسے قول بلی یاد نہیں بے حسابی نے گناہوں کی مجھے پاک کیا میں سراپا ہوں خطا مجھ کو خطا یاد نہیں جب سے دیکھا ، اُسے اُس کا ہی رہتا ہے خیال اور کچھ بھی مجھے اب اس کے سوا یاد نہیں درد دل سوز جگر اشک ہواں تھے کے دوست یار سے مل کے کوئی بھی تو رہا یاد نہیں ایک دن تھا کہ محبت کے تھے مجھ سے اقرار مجھ کو تو یا دیں سب آپ کو کیا یاد نہیں بے وفائی کا لگاتے ہیں وہ کسی پر الزام میں تو وہ ہوں کہ مجھے لفظ وہ غا یاد نہیں میں وہ بیخود ہوں کہ تھے میں نے ڈاکے مرے ہوش مجھے کو خود وہ نگہ ہوش ربا یاد نہیں کوچہ یار سے ہے مجھ کو نکلنا دوبھر کیا تجھے وعدہ ترا لغزش پا یاد نہیں ہائے بد بختی قسمت کہ لگا ہے مجھ کو وہ مرض جس کی مسیحا کو دوا یاد نہیں دہ جو رہتا ہے ہر اک وقت مری آنکھوں میں ہائے کم بختی مجھے اس کا پتہ یاد نہیں ہم وہ ہیں پیار کا بدلہ جنھیں ملتا ہے پیار - بھولے ہیں روزِ جزا اور جزا یاد نہیں 14-9 اخبار در جلد ۲۰۰ مئی شاه