کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 302

کلام محمود — Page 55

سنتے ہیں بعد مرگ ہی تمہا ہے وہ منم مرنے کے بعد ہو جو ہمارا سنگار ہو یں کیوں پھروں کہ خالی نہیں آجتک پھر جو تیرے فضل در حم کا اُمید وار ہو سمان سے تو نے طور پر جو کچھ کیا سلوک مجھ سے بھی اب دہی مرے پر وردگار ہو معشوق گر نہیں ہوں تو عاشق ہی جان کو ان میں نہیں تو اُن میں ہمارا شمار ہو یونٹی پہ بوجھ اُونٹ کا ہے کون لاوتا اس جاں پہ اور یہ ستیم روزگار ہو بتلاؤ کس جگہ پر اسے جا کے ڈھونڈیں ہم جس کی تمام ارمن رسما میں دپیکار ہو قربان کر کے جان دُوئی کا مٹاؤں نام وہ خواب میں ہی آئے ہو مجھ سے دوچار ہو شاہ و گدا کی آنکھ میں شرمہ کا کام دے وہ جان جو کہ راہ خدا میں مُبار ہو