کلام محمود — Page 47
اک عرصہ ہو گیا ہے کہ میں سوگوار ہوں بیدار ہائے دہر سے زار و نزار ہوں مدت سے پارہ ہائے جگر کھارہا ہوں میں رنج دین کے قبضہ میں آیا ہوا ہوں میں میری کم کو قوم کے غم نے دیا ہے تو کسی ابتلا میں ہائے ہوا مبتلا ہوں میں کوشاں حصول مطلب دل میں ہوں اس قدر کہتا ہوں تم کو سچ ہمہ تن التجا ہوں میں کچھ اپنے تن کا منکر ہے مجھ کو نہ جان کا دین محندی کے لیے مر رہا ہوں میں میں رو رہا ہوں قوم کے مُرجھائے پھول پر ٹیبل تو کیا ہے اس سے کہیں خوشنوا ہوں میں بیمار روح کے لیے خاک شفا ہوں میں ہاں کیوں نہ ہو کہ خاک در مصطفے ہوں میں پھر کیوں نہ مجھ کو مذہب اسلام کا ہو کر جب جان دول سے معتقد میرزا ہوں میں دل اور جگر میں گھاؤ ہوئے جاتے ہیں کہ جب چاروں طرف فساد پڑے دیکھتا ہوں میں مرگ پسر یہ پیٹتی ہے جیسے ماں کوئی حالت پہ اپنی قوم کی یوں پیٹتا ہوں میں دل میرا ٹکڑے ٹکڑے ہوا ہے خدا گواہ غم دور کرنے کے لیے گو ہنس رہا ہوں میں تسکین وہ میرے لیے بس اک وجود تھا تم جانتے ہو اس سے بھی اب تو جدا ہوں میں برکت ہے سب کی سب اسی جان جہان کی دور نہ میری بساط ہے کیا اور کیسا ہوں میں شیطاں سے جنگ کرنے میں جان تک لڑاؤ نگا یہ عہد ذات باری سے اب کر چکا ہوں میں افسوس ہے کہ اس کو ذرا بھی خبر نہیں جس سنگ دل کے واسطے یاں مرہٹا ہوں میں کتا ہوں سچ کہ فکر میں میری ہی فرق ہوں اے قوم مشن کہ تیرے لیے مر رہا ہوں میں کیا جائے تو کہ کیسا مجھے اضطراب ہے کیسا تپاں ہے سینہ کہ دل تک کباب ہے حالات پر زمانے کے کچھ تو دھیاں کرو بے فائدہ نہ عمر کو یوں رائیگاں کرد