کلام محمود — Page 45
۴۵ ۲۴ میں نے جس دن سے ہے پیار بڑا چہرہ دیکھا پھر نہیں اور کسی کا رخ زیبا دیکھا سچ کہوں گا کہ نہیں دیکھی یہ خوبی ان میں چهره یوسف و انه از زیما دیکھا خاک کے پتلے تو دنیا میں بہت دیکھے تھے پر کبھی ایسا نہ تھا نور کا پتلا دیکھا جب کبھی دیکھی ہیں یہ میری غزالی آنکھیں میں نے دنیا میں ہی فردوس کا نقشہ دکھیا تیرے جاتے ہی تیرا خیال چلا آتا ہے تیرے جانے میں بھی آنے کا تماشا دیکھا تیری آنکھوں میں سے دیکھی ملک الموت کی آنکھ ہم نے ہاتھوں میں تیرے قبضہ قضا کا دیکھا مشتری بھی ہے ترا مشتری اے جان جہاں اس نے جس دن سے سے تیرا رخ زیبا دیکھا اپنی آنکھوں سے کئی بار ہے سورج کا بھی پیشہ اُلفت میں تری میں نے پگھلتا دیکھا دیکھ کر اس کو ہیں دنیا کے میں دیکھ لئے کیا بتاؤں کہ ترے چہرہ میں ہے کیا دیکھا تیری ہفتہ بھری آنکھوں کو جو دیکھا ئیں نے شور کی آنکھ میں دوزخ کا نظارا دیکھا ہلتے دیکھا ہو کبھی تیرا ہلال ابرو پارہ ہائے جگر شمس کو اڑتا دیکھا ظلم کرتے ہو جو کتے ہو شفق پھولی ہے تم نے عاشق کا ہے یہ خونِ تمنا دیکھا اخبار بدر جلد ۸ - ۲۵ فروری شاه