کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 302

کلام محمود — Page 42

۴۲ کوئی گیسو میرے دل سے پریشاں ہونہیں سکتا کوئی آئینہ مجھ سے بڑھ کے حیراں ہو نہیں سکتا کوئی یاد خدا سے بڑھ کے مہماں ہو نہیں سکتا وہ ہو جیں خانہ دل میں وہ ویراں ہو نہیں سکتا اللی پھر سبب کیا ہے کہ درماں ہو نہیں سکتا ہمارا درد دل جب تجھ سے پنہاں ہو نہیں سکتا کوئی مجھ سا گنا ہوں پر پشیماں ہو نہیں سکتا کوئی یوں فضلتوں پر اپنی گریاں ہو نہیں سکتا چھپا ہے اکبر کے پیچھے نظر آتا نہیں مجھ کو میں اس کے چاند سے چہرہ پر قربانی نہیں سکتا خدارا خواب میں ہی آکے اپنی شکل دکھلائے بس اب تو بر مجھ سے اسے بری ما ہو نہیں سکتا وہاں ہم جانہیں سکتے یہاں وہ آ نہیں سکتے ہمارے درد کا کوئی بھی درماں ہو نہیں سکتا چھیں کو لاکھ پڑوں میں ہم انکو دیکھ لیتے ہیں خیال روئے جاناں ہم سے پنہاں ہو نہیں سکتا زر خالص سے بڑھ کے فنا ہونا چاہیئے دل کو ذرا بھی کھوٹ ہو جس میں مسلماں ہو نہیں سکتا ہوا آخر نکل جاتی ہے آزار مثبت کی چھپاؤ لا کھ تم اس کو وہ پنہاں ہو نہیں سکتا نظر آتے تھے میرے حال پر وہ بھی پریشاں یہ میرا خواب تو خواب پریشاں ہونہیں سکتا خدایا منہ میں گذریں تڑپتے تیسری فرقت میں ترے ملنے کا کیا کوئی بھی ساماں ہو نہیں سکتا بھلاؤں یا دے کیو نکر کلام پاک لہر ہے جدا مجھ سے تو اک دم کو بھی قرآن ہو نہیں سکتا اخبار بقدر جلد ۲۲۰ راکتو بر سنشاه