کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 302

کلام محمود — Page 39

۳۹ نائب خیر الرسل ہو کر کرے گا کام یہ وارث تخت محمد میرزا ہو جائے گا حکم رتی سے یہ ہے پیچھے پڑا شیطان کے اسکے ہاتھوں اب اس کا فیصلہ ہو جائے گا اس کی باتوں سے بی ٹوٹے گا یہ دبالی علیم اس کا ہر ہر لفظ موشی کا عصا ہو جائے گا خاک میں ملکر ملیں گے تجھ سے یارب ایکدن درد جب حد سے بڑھے گا تو دوا ہو جائے گا آئے ٹھانی سے جب سیراب ہو گا مل جہاں پانی پانی شرم سے اک بے حیا ہو جائے گا ہیں در مالک پر بیٹھے ہم لگائے کیمسٹ کی ہاں بھی تو اپنا نالہ بھی رسا ہو جائے گا جبکہ پانی کا ہے انساں نہیں کرتا خیال ایک ہی صدمہ اُٹھا کر وہ ہوا ہو جائے گا سختیوں سے قوم کی گھرانہ ہرگز سے عزیز کھا کے یہ پتھر تو کھیل بے بہا ہو جائے گا جو کوئی دریائے فکر دیں میں ہو گا غوطہ زن میل اتر جائیگی اس کی بول صفا ہو جائے گا قوم کے بغض و عداوت کی نہیں پر ڈا میں وقت یہ کٹ جائے گا فضل خدا ہو جائے گا چھوڑ دو اعمال بد کے ساتھ بد مثبت بھی تم زخم سے انگورسل کر پھر ہرا ہو جائے گا حق پہ ہم ہیں یا کہ یہ تضاد میں جھگڑا ہے کیا فیصلہ اس بات کا روز جزا ہو جائے گا تیرا ہر ہر لفظ اے پیارے سیتائے زماں حتی کے پیاسوں کے لیے آب بقا ہو جائے گا کیوں نہ گرداب ہلا کر پیسے نکل آئے گی قوم کی دیں کا خدا جب ناحت را ہو جائے گا کر لو ہو کچھ موت کے آنے سے پہلے ہو سکے تیر چھٹ کر موت کا پھر کیا خطا ہو جائے گا عشق مولی دل میں جب محمود ہوگا موجزن یادگر اس دن کو تو پھر کیا سے کیا ہو جائے گا