کلام محمود — Page 36
PY دم میسی سے مردے جی اُٹھے ہیں جو اندھے تھے اُنہیں اب سوجھتا ہے ذرا آنکھیں تو کھولو سونے والو! تمھارے سر پر سورج آگیا ہے زمین و آسماں ہیں اس پر شاہد جہاں میں ہر طرف پھیلی دہا ہے میرا ہر ذرہ ہو شربان احمد میرے دل کا یہی اک مدعا ہے اُسی کے عشق میں نکلے مری جاں کہ یاد یار میں بھی اک مزا ہے مجھے اس بات پر ہے فخر محمود مرا معشوق محبُوبِ خُدا۔فخر سنو اے دُشمنان دین احمد نتیجہ بد زبانی کا بڑا ہے کہاں کو اک نظر دیکھو حدادا جو ہوتا ہے اُسی کو کاٹتا ہے نہیں لگتے بھی کیس کر کو انگور نہ حنظل میں کبھی حشر ما لگا ہے لگیں گو سینکڑوں تلوار کے زخم زباں کا ایک زخم اُن سے بُرا ہے شفا پا جاتے ہیں وہ رفتہ رفتہ کہ آخر ہر مرض کی اک دوا ہے خزاں آتی نہیں زخم زباں پر یہ رہتا آخری دم تک ہرا ہے ہمارے انبیا کو گالیاں دو پھر اس کے ساتھ دعوی صلح کا ہے گریبانوں میں اپنے منہ تو ڈالو ذرا سوچو اگر کچھ بھی کیا ہے ہماری مسلح تم سے ہو گی کیونکر تمھارے دل میں جب یہ کچھ بھرا ہے محند کو بُرا کہتے ہو تم لوگ ہماری جان و دل جس پر فدا ہے مُحند ہو ہمارا پیشوا ہے مُحند ہو کہ محبوب خُدا ہے ہو اس کے نام پر قربان سب کچھ کہ وہ شاہنشہ ہر دوسرا ہے اسی سے میرا دل پاتا ہے تسکیں وہی آرام میری روح کا ہے خدا کو اس سے مل کر ہم نے پایا وہی اک راہ دیں کا رہنا ہے