کلام محمود — Page v
} ཨཱ ۶۵ ۷۳ A- Ar Ar ۸۵ A ۹۰ 41 ۹۲ ۹۴ ۴۰ ۴۲ حمید شکنی نہ کرو اہل دن ہو جاؤ نہ قید لفس دلی سے مجھے چھڑائیں گے کب درد ہے دل میں میرے یا خار ہے خُدا سے چاہیئے ہے کو لگانی کیا سبب میں ہو گیا ہوں اس طرح زار و نزار روڑے جاتے ہیں بامید تمنا سوئے باب اسے چشمہ علم و ہر ملی اسے صاحب فہم و ذکا محمود ! بحال زار کیوں ہو ؟ م نہ کے رہے نہ رہے خم نہ یہ سبو باقی ۲۵ ملت احمد کے ہمدردوں میں غمخواروں میں ہوں محمد عربی کی ہو آل میں برکت آہ دُنیا پہ کیا پڑی اُفتاد ہے دست قبلہ نما لا اله الا الله غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں ۴۹ اد ۵۲ ۵۳ ۵۵ مری تدبیر جب مجھ کو مصیبت میں پھنساتی ہے تری محبت میں میرے پیارے ہر اک مصیبت اُٹھائیں گے ہم نونہالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے یادجس دل میں ہو اس کی وہ پریشان نہ ہو آریوں کو میری جانب سے سنائے کوئی ساغر حسن تو پڑ ہے کوئی کے خوار بھی ہو