کلام محمود — Page 32
دل دیگر کے پر نچھے اُڑے ہوئے ہیں ایں اگر چہ دیکھنے میں اپنا حال زار نہیں جگا رہے ہیں سیٹیا کبھی سے دنیا کو مگر غضب ہے کہ ہوتی وہ ہوشیار نہیں مقابلہ میں میسیج زماں کے جو آئے وہ لوگ وہ ہیں جنھیں حق سے کچھ بھی پیار نہیں کلام پاک بھی موجود ہے اسے پڑھ لے ہمارا تجھ کو جو اسے قوم اعتبار نہیں بھی تو دل پر بھی جاکر اثر کرے گی بات سُنائے جائیں گے ہم تم کو ہزار نہیں کروڑ جاں ہو تو کر دوں جندا محمد پر کہ اس کے لطف و عنایات کا شمار نہیں