کلام محمود — Page 23
تو ایسے شہرک پر ہوں میرا مال و آبرو اور ایسا گھر روگ بننے میری جان کا اے قوم کچھ تو عقل فرد سے بھی کام سے لڑتی ہے میں سمو دہ ہے کیسی شان کا گوں اکھ تو مقابلہ اس کا کرے مگر بیکا نہ بال ہو گا کوئی اس جو ان کا اے دوستو! جو سی کیلئے رنج سہتے ہو یہ رنج و دردوغم ہے فقط در میان کا کچھ یاس نا امیدی کو دل میں جگہ یہ دو اب جلد ہو چکے گا یہ موسم خزان کا اب اسکے پورا ہوتے ہی آجائیگی سیار وعٹ دیا ہے حق نے نہیں جو شان کا چاہا اگر خدا نے تو دیکھو گے جلد ہی چاروں طرف ہے شور بپا الامان کا کا فر بھی کہا اٹھیں گے کہ تچاہئے ، بزرگ دعوی کیا ہے میں نے مسیح الزمان کا محمود کیا بعید ہے دل پر جو قوم کے نالہ اثر کرے یہ کیسی نوحہ خوان کا