کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 302

کلام محمود — Page 19

14 پڑا عجب شور جا بجا ہے جو ہے وہ دُنیا پر ہی خدا ہے نہ دل میں خوف خدا رہا ہے نہ آنکھ میں ہی رہی حیا ہے میسیج دوراں میل میسٹی ، بجا ہے دُنیا میں جس کا ڈنکا خُدا سے ہے پا کے حکم آیا ، ملا اسے منصب مدعی ہے ہے چاند سورج نے دی گواہی پڑی ہے طاعون کی تباہی بچائے ایسے سے پھر خُدا ہی ہو اب بھی انکار کر رہا ہے ده مطلع آبدار لکھوں، کہ جس سے عتاد کا ہو دل نوں حروف کی جا گھر پروؤں، کہ مجھ کو کرنا یہی روا ہے میج دنیا کا رہنما ہے ، غلام احمد ہے مصطفے ہے بروز اقطاب دانبیاء ہے، خُدا نہیں ہے خدا نما ہے جہاں سے ایمان اٹھ گیا تھا، فریب و مکاری کا تھا چرچا فساد نے تھا جمایا ڈیرا ، وہ نقشہ اس نے اُلٹ دیا ہے اسی کے دم سے مرا تھا آتھم، اس نے دیکھو کا سر کیا نم اسی کا دُنیا میں آج پرچم ، ہما کے بازو پہ اُڑ رہا ہے اس کی شمشیر خونچکاں نے کیا قصوری کو ٹکڑے ٹکڑے یہ زلزلہ بار بار آئے ، اسی کی تصدیق کر رہا ہے جھایا طاعوں نے ایسا ڈیرا ، ستون اس کا نہ پھر اکھیڑا دیا ہے خلقت کو وہ تریڑا ، کہ اپنی جاں ہوئی خفا ہے مقابلہ میں جو تیرے آیا ، نہ خالی پیچ کر کبھی بھی لوٹا یہ دبدبہ دیکھ کر سینما، ہو کوئی حاسد ہے جل رہا ہے