کلام محمود — Page 288
KAN اک طرف تقدیر مبرم اک طرف عرض ودعا فضل کا پڑا تھکا دے اے مرے مشکل کشا روز جزا قریب ہے اور رہ بعید ہے * اخبار الفضل بابت ۱۳۵ رہے وفا و صداقت پیرا پاؤں مدام ہو میرے سر پہ مری جان تیری چھاؤں مدام ا اختیار الفضل بیلد ۲۵-۲ نومبر ۱۱۳ جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا دارالہجرت ربوہ کے متعلق الهامی شعر اندازاً اپریل ۱۹۴۷ الألم