کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 302

کلام محمود — Page 14

ورنہ ابھی نام کو! تمھارے آئے گا وہ آگے ہو کیا ہے تقدیر سے ہو چکا مقدر قسمت میں تمھاری زلزلہ ہے وہ دن کہ جب آئے گی مصیبت آنکھوں میں ہماری گھومتا ہے حیرانی میں ایک دوسرے سے اُس دن یہ کسے گائیں یہ کیا ہے؟ چکھیں گے مزا عذاب کا جب جائیں گے کہ ہاں کوئی خُدا ہے پتھر بھی پکار کر کہیں گے ان کافروں کی یہی سزا ہے اے قوم خُدا کے واسطے تو بتلا کہ ہو تیرا مدعا ہے حق نے جسے کر دیا ہے مامور تسلیم میں اس کی مذر کیا ہے اللہ سے چاہو عفو تقصیر دیتا ہے اُسے جو مانگتا ہے محمود خدائے لم یزل سے ہر وقت یہی میری دعا ہے اُس شخص کو شاد رکھے ہردم جو دین قویم پر بندا ہے اور اس کو نکالے ظلمتوں سے۔جو شرک میں کفر میں پھنسا ہے