کلام محمود — Page 260
مرے ہاتھوں تو پیدا ہوگئی ہیں الجھنیں لاکھوں ہو سلجھیں گی تو سلجھیں گی تیرے دست مرد ہی سے مرا سردار کوثر بانٹنے بیٹھا ہے جب پانی تو دل میں خیال کا ست را کہ وہ بانٹے گا خشت سے میٹھا کے لیے لکھا ہے وہ شیطاں کو مارے گا نہ مارے گا وہ آہن سے کریگا قتل محبت سے مربی خشش تو وابستہ ہے تیری چشم پوشی سے اپنی رحم کر مجھ پر مرا جاتا ہوں خفت سے مجھے تو اے خُدا دنیا میںہی کو بخش دے جنت تستی پا نہیں سکتا ، قیامت کی زیارت سے ترے در کے سوا دو کیوں نہ دروازہ کسی گھر کا کبھی مت کھینچ رہا تھا اپنا تومیری کفالت سے نہ بھول اے ابن آدم اپنے دادا کی حکایت کو نکالا تھا اُسے ابلیس نے دھوکہ سے جنت سے خُدا سے بڑھ کے تم کو چاہنے والا نہیں کوئی کسی کا پیار بڑھ سکتا نہیں ہے اسکی چاہت سے کرو د قبال کو تم سرنگوں اطراف عالم میں کہ ہے لبریز دل اس کا محمد کی عداوت سے بھی مغرب کی باتوں میں نہ آنا اسے میرے پیار نہیں کوئی ثقافت بڑھے کے اسلامی ثقافت سے یہ ظاہر میں غلامی ہے مگر باطن میں آزادی نہ ہونا منحرف ہرگز محمد کی حکومت سے کیا تھا طور پر موٹی کو اس نے لن ترانی پیر محمد پر ہوا جب وہ ترکی کا عنایت سے تمسے دشمن تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جائیں گے نہ ڈران سے کھڑا ہو سامنے تو انکے جرات سے - ہے کرنا زیر شیطاں کا بہت مشکل مگر سمجھو کہ مل ہوتی ہے یہ شکل ماؤں کی اجابت سے خُدایا دور کردے ساری بدیاں تو میرے کول سے ہوا برباد ہے میرا سکوں عقبی کی دہشت سے