کلام محمود — Page 249
ور شدہ نبوی کے ڈر سے مولوی کا احترام الفت پدری کی خاطر سستیدوں کے میں غلام جو بھی کچھ ہے غیر کا ہے ان کی حالت ہے تو یہ دولت مقنی سے خالی نعمت دنیا حرام تیرے بندے اسے ندا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں یاد میں ستر آن کے الفاظ تو ان کو مقام اور پونچھیں تو ہیں کہتے یہ ہے اللہ کا کلام ریتیں نقود ہے ایمان ہے بالکل ہی نام علم و عرفاں کی غذا ان پر ہے قطعا ہی حرام تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں مال سے بنے جیب عالی علم سے خالی ہے سر یا د خالق سے ہے غفلت رہتی ہے فکر وگر مال خود بر باد ویران مال دیگر پر نفسه منزل آخر سے غافل پھر رہے ہیں در بدر تیرے بندے اسے خُدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں ہے قدم دُنیا کا ہر دم آگے آگے جا رہا تیز تر گردش میں ہیں پہلے سے اب ارض و سما آج کوئی بھی نظر آتا میں ساکن ہمیں ایک مسلم ہے کہ ہے آرام سے بیٹھا ہوا تیرے بندے اسے خُدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں فکر انسانی فلک پر اُڑ رہا ہے آج کل فلسفہ دکھلا رہا ہے خوب اپنا زور دیل پر مسلماں راستہ پر محو حیرت ہے کھڑا کہہ رہا ہے اس کو ملا اک قدم آگے نہ چل تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں شمع نور آسمانی کو دیا جس نے عجب باب و حتی حق کا جس نے بند بالکل کردیا جس نے فضل ایزدی کی راہیں سب مسدود کیس ہے اسی ملا کو مسلم نے بنایا راہ منا تیرے بندے اے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں تصویر کا دوسرا رخ وہ بھی ہیں کچھ جو کہ تیرے عشق سے منور ہیں زیوکی آلائشوں سے پاک ہیں اور دُور ہیں