کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 302

کلام محمود — Page 244

14A ولیبر کے در پہ جیسے ہو جانا ہی چاہیئے گر ہو سکے تو حال سنانا ہی چاہیئے بیکار رکھ کے سینہ میں دل کیا کرونگا ئیں آخر کسی کے کام تو آنا ہی چاہیئے رنگ دنا دکھاتے ہیں ادنی و خوش بھی غم دوستوں کا کچھ تھیں کھانا ہی چاہیئے اس سیہ روٹی پہ شوق ملاقات ہے محبت اس ماہ رُو کا رنگ چڑھانا ہی چاہیئے بے عیب چیز لیتے ہیں تحفہ میں خوبرو داغ دل اسیم مٹانا ہی چاہیئے شتر و فساد دہر بڑھا جا رہا ہے آج اس کے بہانے کو کوئی دانا ہی چاہیئے ساتھی بڑھیں گے تب کہ بڑھاؤ گے دوستی دل فیہ کا بھی تم کو لبھانا ہی چاہیئے تعمیر کعبہ کے لیے کوئی جگہ تو ہو پہلے صنم کدہ کو گرانا ہی چاہیئے رونق مکاں کی ہوتی ہے اس کے مکین سے اس دائر ہا کو دل میں بسانا ہی چاہیئے دائر دل ہے شکار حرص و ہوا و ہوس ہوا پنجہ سے ان کے اس کو چھڑانا ہی چاہیئے (اگست شاه ناصر آباد، شده) اخبار الفضل میلد ۰ - ۱۲ را کتوبر له لاہور پاکستان -