کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 302

کلام محمود — Page 243

166 قصد ہے مدت سے شیطان کے ہاتھ آئی حکومت جہاں کی خدا کی خدائی ہر اک چیز اُلٹی نظر آ رہی ہے بھلائی بُرائی ، بُرائی سلائی یہ گنگا تو الٹی ہے جا رہی ہے جو مسلم کی دولت تھی کا فر نے کھائی میں خود اپنے گھر کا بھی مالک نہیں ہوں ہے غیروں کے ہاتھوں میں میری بڑائی فرائڈ کا ہے ذکر ہر اک زباں بہ سر ہیں بھولے ہوئے اب بخاری نسائی شجر کفر کا کاٹنا ہے مصیبت ہے دمری کی بڑھیا نکا سر منڈائی ترے باپ دادوں کے مخزن متن تیرے دل کو بھائی ہے دولت پرائی ہیں مدح وشن حصہ گیر و ترسا یہ مسلم کی قیمت میں ہے جگ ہنسائی شیا میں کا قبضہ ہے مسلم کے دل پر خدا کی دُہائی خدا کی رہائی تو اک بار مجلس میں محب کو بلا تو کروں گا نہ تجھ سے بھی بے وفائی خدا میرا بدلہ ہے لیتا ہمیشہ جو گذری میرے دل پہ دُنیا پر آئی شنا کرتے ہیں دل کی حالت ہمیشہ کبھی آپ نے بھی ہے اپنی سنائی میرا کام جلتی پر پانی چھڑکن رقیبوں کا جیتہ لگائی بھائی محمد کی امت میٹھا کا شکر پہیلی یہ میری سمجھ میں نہ آئی نبوت سے منکر وراثت کا دعوی ذرا دیکھت مولوی کی ڈھٹائی رہی ہے نہ تیری نہ شیطان کی وہ کچھ ایسی ہے بگڑی خدا یا خدائی اخبار الفضل میله - ، اکتوبر سہ لاہور - پاکستان -