کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 302

کلام محمود — Page 242

۲۴۲ 164 دل کعبہ کو چلا مرا بت خانہ چھوڑ کر زمزم کی ہے تلاش اُسے میخانہ چھوڑ کر کیوں چل دیا ہے شمع کو پروا نہ چھوڑ کر جاتا ہے کوئی یوں کبھی کاشانہ چھوڑ کر منجدھار میں ہے بخشی ڈبوئی خیرو نے آہ کیا پایا میں نے خصلت رندانہ چھوڑ کر راک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے کیوں کر جیوں گا ہاتھ سے پیمانہ چھوڑ کر رج ہے کہ فرق دوزخ و جنت میں سے خیف پائی نجات دام سے اک دانہ چھوڑ کر ہے لذت سماع بھی لطف نگاہ بھی کیوں جا رہے ہو محبت جانا نہ چھوڑ کر ملک و بلا ؤ سونپ دیئے دشمنوں کو سب بیٹے ہو گھر میں فصلت مڑا نہ چھوڑ کر ہے گنج عرش ہاتھ میں قرآن طاق پر مینا کے ہو رہے ہیں وہ میتخانہ چھوڑ کر دل دے رہا ہوں آپ کو لیتے تو جائیے کیوں جا رہے ہیں آپ یہ نذرانہ چھوڑ کر اختیار الفضل جلد ۲۶۰۰ ستمبر سا لا ہو ر پاکستان