کلام محمود — Page 237
٢٣ ۱۷۲ کفر کی طاقتوں کا توڑ ہیں ہم گیتوں ان روح سلام کا نچوڑ ہیں ہم معتام بالا ہے ایک بھی ہوں اگر کروڑ ہیں ہم نما ہے گر تو ہم سے بل وصل کی وادیوں کے موڑ ہیں ہم تم میں ہم میں مناسبت کیسی؟ تم مفاصل ہو اور جوڑ ہیں ہم ہم اُمیدوں سے پر ہیں تم مایوس رونی صورت ہو تم ہنسوڑ ہیں ہم ۱۳ / جولائی شده بر مقام سیکیسر اخبار الفضل جلد ۶ - ۱۲ را گست سہ لاہور پاکستان -