کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 302

کلام محمود — Page 10

دہ قصیدہ میں کروں وصف میم میں رقم فخر بھیں جسے لکھنا بھی مرے دست و قلم میں وہ کامل ہوں کہ ٹن سے مرے اشعار کوگر پھینک نے جام کو اور چوسے مرے پاؤں کی جیم میں کسی بحر میں دکھلاؤں جو اپنی تیزی عرفی و ذوق کے بھی دست زباں ہو دیں قلم کھولتا ہوں میں زباں وصف میں اس کے یارو جس کے اوصاف حمیدہ نہیں ہو سکتے تم جان ہے سارے جہاں کی وہ شہر والا جاہ منبع بود و سنا ہے وہ میرا ابر کرم وہ نصیبا ہے تیرا اے میرے پیارے بیٹی فخر سمجھیں تری تقلید کو ابن مریم فیض پہنچانے کا ہے تو نے اُٹھایا بیڑا لوگ بھوے میں تے وقت میں نام حاتم تاج اقبال کا سر پر ہے مزین تیرے نصرت وفتح کا اُڑتا ہے ہوا میں پرچم شان و شوکت کو تری دیکھ کے متاد د شریر خون دل پیتے ہیں اور کھاتے ہیں منفقہ وتم کونسا مولوی ہے جو نہیں دشن تیرا کون ہے جو کہ یہودی علما سے ہے کم کونسا پھوڑا ہے جیلہ تیری رُسوائی کا ہر جگہ کرتے ہیں یہ حق میں ترے سب وشتم پر تیری پشت پر وہ ہے جسے کہتے ہیں خُدا جس کے آگے ہے ملائک کا بھی ہوتا سر خم جب کیا تجھ پر کوئی حملہ توکھائی ہے شکست ماروہ ان کو پڑی ہے کہ نہیں باقی دم اخبار بدر - جلد ۵ - ۶ ستمبر له