کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 302

کلام محمود — Page 224

۲۲۴ ۱۵۹ قید کافی ہے فقط اس حسن عالمگیر کی تیرے عاشق کو بھلا حاجت ہی کیا زنجیر کی ڈہ کہاں اور ہم کہاں پر رحم آڑے آ گیا رہ گئی عزت ہمارے نالہ دلگیر کی ب کہیں جا کر ہوا حاصل وصال فرات پاک مدتوں میں نے پرستش کی تری تصویر کی مجھ کو لڑنا ہی پڑا احدار کینہ تو ز سے جنگ آخر ہو گئی تدبیر سے تقدیر کی جن کے سینوں میں نہ دل ہوں بلکہ پتھر ہوں مگر کیا پہنچے ان تک ہمارے نالئہ دیگر کی مید رضی کی تڑپ میں تم نے پایا ہے مزہ ہے مرا دل جانتا لذت تمہارے تیر کی مجھ کو رہتی ہے ہمیشہ اس کے ہاتھوں کی تلاش فکر رہتی ہے تجھے صبح و مسا کف گیر کی جستجوئے خن نہ کر تو دوسرے کی آنکھ میں فکر کر نادان اپنی آنکھ کے شہتیر کی اخبار الفضل جلد ۵ - ۹ راگست سه لاہور پاکستان