کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 302

کلام محمود — Page 214

۲۱۴ ۱۴۹ ہوگا حریم قدس کے سائن کو نام سے کیا کام ہوا و حرص کے بندہ کو کام سے کیا کام ہوں امکان تو قصر رحام سے کیا کام جو ہر جگہ ہو اسے اک مقام سے کیا کام ربین عشق کو کیف مدام سے کیا کام پلائیے مجھے آنکھوں سے جام سے کیا کام ہر ایک حال میں ہے لب پہ میرے نام خدا خدا پرست ہوں میں رام رام سے کیا کام سیلوئے دل کو ڈبوتا ہوں جوئے رحمت میں مجھے ہے ساغر و مینا و جام سے کیا کام ہے میرے دل میں محمد تو اسکے دل میں میں مجھے پیامبروں کے پیام سے کیا کام مجھے پلائی ہو ساتی تو ابر رحمت بھیج بغیر ابر کے ہار دجام سے کیا کام مرا حبیب تو بستا ہے میری آنکھوں میں مجھے حسینوں کے ڈر اور بام سے کیا کام بو اس کی ذات میں کھو بیٹھے اپنی ہستی کو اُسے ہو اپنے پرایوں کے نام سے کیا کام بھی بھی عشق میں سو دے تو انہیں کرتے جو جاں ہی دینے پہ آئے تو دام سے کیا کام سمند عزم پہ جو ہو گیا سوار تو پھر اُسے رکاب سے مطلب لگام سے کیا کام اُسے تو موت کے سایہ میں بن چکی ہے حیات شہید عشق کو عیش دوام سے کیا کام مجھے خدا نے سکھایا ہے علیم ربانی مجھے ہے فلسفہ منطق کلام سے کیا کام جو ہولی کھیلتے رہتے ہیں خونِ مسلم سے انہیں وفا و وفاق و نظام سے کیا کام بغل میں بیٹھے ہوئے دستوں کی کیا حاجت ہوں پختہ کار توپھر عشق خام سے کیا کام بچھے ہیں وام تو ان کے لیے جو اُڑتے ہیں ، اسیر عشق ہوں میں مجھ کو دام سے کیا کام اخبار الفضل جلد ۱۹۰۵ را پریل سانائه - لاہور پاکستان