کلام محمود — Page 215
۲۱۵ ۱۵۰ چاند چمکا ہے گال میں ایسے تاج ہو جیسے بال ہیں ایسے تن پہ کمخواب یہ سیٹ میں حلوان جاں پہ ان کی وبال ہیں ایسے جن کو یقینی کا فکر رہتا ہو ہیں مگر خال خال ہیں ایسے لوٹنے سے اُنہیں کہاں فرصت وُہ پریشان حال ہیں ایسے لیڈر قوم بھی ہیں ڈاکو بھی اُن کے اندر کمال ہیں ایسے نے کے پھندے میں جو پھنسا سو پھنسا اس کے مضبوط بال ہیں ایسے جن کے رہ جاتے ہیں تمام افکار دل کے اندر اُبال ہیں ایسے جو کہ شرمندہ جواب نہیں ان کے دل میں سوال ہیں ایسے اُن کو فرصت ہی مصلح کی کب ہے؟ وقعت جنگ و جدال ہیں ایسے دہ کریں بے وفائی اسے تو بہ آپ کے ہی خیال ہمیں اپنے ، قوم کے مال پھر خیانت سے کون چھوڑے یہ مال ہیں ایسے سجدة بارگہ بھی بوجھل ہے کیا کریں کہ نڈھال ہیں ایسے گا یہاں تکیہ کلام اُن کا یہ عدو خوش خصال میں ایسے دین ودنیا کی شدہ نہیں اُن کو موخن و جمال ہیں ایسے توڑنے کو بھی دل نہیں کرتا یہ محبت کے جال ہیں ایسے ساری دنیا میں مشک پھینکیں گے۔میرے بھی کچھ غزال ہیں ایسے اختار افضل جلد ۵ - ۲۲ ا پریل سنشاه - لاہور پاکستان را