کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 302

کلام محمود — Page 208

الدله در سُنانے والے افسانے بُجا کے بھی دیکھے بھی ہیں بندے خُدا کے نہ واپس آیا دل اس در پہ جا کے وہیں بیٹھا رہا ڈھونی رما کے بھٹکتے پھر رہے ہو سب جہاں میں لیا کیا تم نے دلبر کو بھلا کے ئے خانہ پا کر بند اے شیخ چلے میں آپ بھی گھر کو خدا کے یہ تم کو ہو گیا کیا اہل ہمت نہیں کیا یاد وہ وعدے وفا کے کیا کرتے ہیں ہم سیر در عالم کسی کو اپنے پہلو میں بٹھا کے خدا ہی نے لگائی پار اُٹھائے یونی احساں ناخدا کے مجھے دیگر جب بھی دیکھتے ہیں بٹھا لیتے ہیں پاس اپنے بلا کے بھی دن لے کے چھوڑیں گے دو یہ مال بھلا رکھو گے کب تک دل چُھپا کے جو پھر نکلو تو جو چاہو سو کہنا ذرا دیکھو تو اس محفل میں آئے جنھوں نے ہوش کے خانہ میں کھوئے وہ کیا لیں گے بھلا مسجد میں جائے یزیدی شان کے مالک ادھر آ مناظر دیکھتا ب کربلا کے مرے کانوں میں آوازیں خُدا کی تیرے کانوں میں آپکے بم کے دہما کے میری اُمید وابستہ فلک سے تیری نظروں میں اس دُنیا کے خاکے بلا تجھ کو نہ کچھ دنیا میں آئے نہ تو دیکھے گا راحت یاں سے جاکے اخبار الفضل جلد ۴ - لاہور پاکستان - ۰ ارمئی سنت اسمه