کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 302

کلام محمود — Page 209

۱۴۵ بتاؤں تمھیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں ہوں بندہ مگر میں خُدا چاہتا ہوں میں اپنے سیاہ خانہ دل کی خاطر وفاؤں کے خالق ! دنا چاہتا ہوں ہو پھر سے ہرا کر دے ہر خشک پودا چمن کے لیے وہ سب چاہتا ہوں مجھے بیر ہرگز نہیں ہے کسی سے میں دُنیا میں سب کا بھلا چاہتا ہوں دہی خاک جس سے بنا میرا پتلا ہیں اس ناک کو دیکھنا چاہتا ہوں بکالا مجھے جس نے میرے چمن سے میں اس کا بھی دل سے بھلا چاہتا ہوں میرے بال و پر میں وہ ہمت ہے پیدا کہ لے کر قفس کو اُڑا چاہتا ہوں بھی جس کو رشیوں نے منہ سے لگایا وہی جام اب میں پیا چاہتا ہوں رقیبوں کو آرام و راحت کی خواہش مگر میں تو کرب و بلا چاہتا ہوں۔دکھائے جو ہر دم ترا حُسن مُجھ کو مری جاں! میں وہ آئنہ چاہتا ہوں } رساله مصباح - ماہ جنوری ۱۹۵۷