کلام محمود — Page 206
۱۴۲ کھلے ہو آنکھ تو لوگ اس کو خواب کہتے ہیں ہو عقل اندھی تو اس کوسٹ باب کہتے ہیں بھی کے من کی ہے اس میں آب کہتے ہیں بنی ہے عین اسی سے تراب کہتے ہیں وہ عمر جس میں کہ پاتی ہے عقل نور وجبلا تم اس کو شیب کہو ہم شباب کہتے ہیں شرور روح جو چاہے تو دل کی سُن آواز کہ تار دل ہی کو چنگ و رباب کہتے ہیں ڈہ سلسبیل کا چشمہ کہ جس سے ہو سیراب جگہ سے اس کو مدد کیوں سراب کہتے ہیں نگارہ یار سے ہوتے ہیں سب طبق روشن رموزِ عشق کی اس کو کتاب کہتے ہیں یمیں بھی تجھ سے ہے نبت اور نہ بادہ نوش نگاہ یار کو ہم بھی شراب کہتے ہیں جو چاہے تو تو وہی غیر فانی بن جائے وہ زندگی کہ جسے سب حباب کہتے ہیں یہ فخر کم نہیں مجھ کو کہ دل مسل کے میرا دو پیار سے مجھے خانہ خراب کہتے ہیں بڑھا کے نیکیاں میری خطائیں کر کے معاف وہ اس ظہور کرم کو حساب کہتے ہیں فراق میں جو میری آنکھ سے بسے تھے اشک انہی سے محسن نے پائی ہے اب کہتے ہیں قدم بڑھا کہ ہے دیدار یار کی ساعت الٹنے والا ہے مُنہ سے نقاب کہتے ہیں *۔۱۹۴۹ اخبار الفضل فیلد ۳ - لاہور پاکستان ۱۳۱۰ دسمبر شانه