کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 302

کلام محمود — Page 8

ظہور مہدی دوراں مثل ہوش اُڑ جائیں گے اس زلزلہ آئی کے دن بارغ احمد پر جو آتے ہیں یہ مُرجھانے کے دن یوں نہیں ہیں جھوٹی باتوں پر یا ترانے کے دن ہوش کر غافل کہ یہ دن تو ہیں گھبرانے کے دن سختیوں سہی جو جاگے گی تو جاگے گی یہ قوم اسے بنی ہرگز نہیں یہ کلمے سہلانے کے دن مہدی آخر زماں کا ہو چکا ہے اب ظہور میں بہت جلد آنیوالے میں کچھیلانے کے دن یه شرارت سب دھری رہ جائیگی جب کہ خدا ہوش میں لائے گا تم کو ہوش میں لانے کے دن طوطے اُڑ جائیں گے ہاتھوں کے تمہارے غافلو اس خدائے مقدر کے چہرہ دکھلانے کے دن اک جہاں مانے گا اس دن قمت خیر الرسل اب تو تھوڑے رہ گئے اس دیس کے جھٹلانے کے ان چھوڑ دو سب عیش یارو اور فکر دیں کرد آجکل ہرگز نہیں ہیں پاؤں پھیلانے کے دن کچھ صلاحیت جو رکھتے ہو تو حق کو مان لو یا درکھو دوستو یہ پھر نہیں آنے کے دن بر ونخوت سے خدا را باز آؤ تم کہ اب جلد آنیوالے ہیں وہ آگ بھڑ کانے کے دن نام لکھوا کر مسلمانوں میں تو خوش ہے عزیز پر میں بیچ کہتا ہوں میں یہ خون دل کھانے کے دن جس لیے یہ نام پایا تھا، نہیں باقی وہ کام اب تو اپنے حال پر میں خود ہی شرمانے کے دین لوگوں کو غفلت کی تو ترغیب دیتا ہے مگر بھول جائیگا یہ سب کچھ تو سزا پانے کے دن اخبار محکم جلد ۱۰-۲۴ جون سنه