کلام محمود — Page 201
آنکھوں میں وہ ہماری رہے ابتدا یہ ہے ہم اس کے دل میں بسنے لگیں انتہا یہ ہے روزہ نماز میں کبھی کٹتی تھی زندگی اب تم خدا کو بھول گئے، انتہا یہ ہے لاکھوں خطائیں کر کے جو ٹھکتا ہوں اُس طرف پھیلا کے ہاتھ ملتے ہیں مجھ سے وفا یہ ہے راتوں کو آکے دیتا ہے مجھ کو تسلیاں مُردہ خُدا کو کیا کروں میراندا یہ ہے کیا حرج ہے جو ہم کو پہنچ جائے کوئی شتر پہنچے کسی کو ہم سے اگر شتر برا یہ ہے اس کی وفا ومر میں کوئی کمی نہیں تم اس کو چھوڑ بیٹھے ہو ظلم وجنایہ ہے مارے ملاتے کچھ بھی کرے مجھ کو اس سے کیا مجلس میں اُس کے پاس رہوں مدعا یہ ہے وئے چمن اُڑائے پھرے ہو ، وہ کیا صبا لائی ہے بوئے دوست اُڑا کر مبا یہ ہے اخبار الفضل حبله ۲ - لاہور پاکستان ۲۰ / جولائی شداد