کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 302

کلام محمود — Page 200

۲۰۰ ١٣٦ چھوڑ کر چل دئے میدان کو دو باتوں سے مرد بھی چھوڑتے ہیں دل کبھی ان باتوں سے ئیں دل و جاں بخوشی ان کی نذر کر دیتا ماننے والے اگر ہوتے وہ سوناتوں سے دن ہی پڑھتا نہیں قسمت کا مری اے افسوس منتظر ہوں تیری آمد کا کئی راتوں سے رنگ آجاتا ہے اُلفت کا نگا ہوں میں تیری دور نہ کیا کام تیرے بندوں کا برساتوں سے میرا مقدور کہاں شکوہ کروں اُن کے حضور محمد کو فرصت ہی کہاں اُن کی مناجاتوں سے کامیابی کی تہمت ہے تو کر کوہ کئی یہ پری شیشے میں اُتری ہے کہیں باتوں سے بار مل جاتا ہے مجلس میں کسی کی دو پہر دن ہوئے جاتے ہیں روشن ہر اب راتوں سے ناز سے غمزہ سے عشوہ سے فسوں سازی سے لے گئے دل کو اڑا کر مرے کن گھاتوں سے کبھی گریہ ہے کبھی آہ و فغاں ہے اے دل تنگ آیا ہوں بہت میں ترمی ان باتوں سے تو میری جاں کی غذا ہے مرے دل کی راحت یہ پیٹ بھرتا ہی نہیں تیری ملاقاتوں سے اخبار الفضل جلد ۲ - لا ہو ر پاکستان - ۲۵/ جولائی ساله