کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 302

کلام محمود — Page 186

۱۲۵ يا رَازِقَ الثَّقَلَيْنِ اَيْنَ جَنَاكَ جِئْنَاكَ رَاجِينَ لِبَعْضِ نَدَاكَ اے جن و انس کے رازق تیرا اپیل کہاں سےہم تیری بخشش سے کچھ حصہ لینے کے اُمیدوار بن کر تیرے پاس آئے ہیں نشد َأمَامَ النَّاسِ غَصَ جَفَاكَ وَالحَقِّ يَمْسَ وَفَاءنَا كَوَفَا كَ ہم لوگوں کے سامنے تیری جنا کا شکوہ تو کرتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ ہماری وفا تیری و نا جیسی نہیں ہے كُنتَ تَنَعِي عَنْهُ كُلَّ تَنْتِي يَا قَلْبيَ الْمَجْرُوحَ كَيْفَ رَمَاكَ اے میرے زخمی دل ! تو تو اس بت کنارہ کش رہتا تھا۔اب ہو تو اس کی محبت کا شکار ہوگیا ہے تو یہ تیرا نے تجھ پر کیسے چلایا لَمَّا يَبْتُ وَقُلتُ اَيْنَ نَبَاتِي قَالَتْ عَنَايَتُه هِنَاكَ مِنَاكَ جب میں مایوس ہو گیا اور کہا کہ میری نجات کہاں گئی ؟ تو اللہ تعالیٰ کی عنایت نے کہا یہاں یہاں میرے پاس يَا هَادِيَ الأَرْوَاحِ كَاشِفَ هَتِهَا حُنَا بِبَابِكَ مابين هداك اسے روحوں کے ہاری اور ان کے غم کو دور کر نیوا ہے۔ہم تیری رہنمائی کے طلبگار بن کر تیرے پاس آئے ہیں يَا أَيُّهَا المَتَان من بِرَحْمَةٍ وَارْزُقْ قُلُوبَ عِبَادِكَ تَقُونَكَ اسے مشان اپنی رحمت اور اپنے فضل سے احسان کو اور اپنے بندوں کے دلوں کو تقویٰ عطا کر احيلت لي بابتِسَامِ وَنَظرَةٍ غَطَتْ وَجُودِي كُلَّهُ نُعماك تو نے ایک ہی مسکراہٹ اور نظر محبت کے ساتھ مجھے زندہ کر دیا اور تیری نعمتوں نے میرے سراپا کو ڈھانک لیا اختبار الفضل جلد ۲ - لاہور پاکستان ۲ جنوری نشده