کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 302

کلام محمود — Page 179

169 اے حسن کے جادو مجھے دیوانہ بنائے اے شمع رخ اپنا مجھے پر دانہ بنا دے ہر وقت مئے عشق یہاں سے رہے بتی ویرانہ دل کو میرے میخانہ بنادے مجھ کو تیری مخمور نگاہوں کی قسم ہے اک بار ادھر دیکھ کے مستانہ بنا دے کر دے مجھے اسرار محبت سے شناسا دیوانہ بنا کر مجھے فرزانہ بنا دے اُس اُلفت ناقص کی تمنا نہیں مجھ کو جو دل کو میرے گوہر یکتا نہ بنا میں جائزہ عشق میرے عشق سے عاشق دل کو میرے معشاق کا پیمانہ بنا دے جو ختم نہ ہو ایسا دکھا جلوہ تاباں جو مر نہ سکے مجھ کو وہ پروانہ بنادے دل میں مرے کوئی نہ بسے تیرے سوا اور گر تو نہیں بستا اسے ویرا نہ بنادے ابلیس کا سر پاؤں سے تو اپنے مسل دے ایسا نہ ہو پھر کعبہ کو بت خانہ بنادے رے اختبار الفضل جلد ۳۲ - ۳۰ دسمبر ۳ ۳۰۰ ۱۱۳۳