کلام محمود — Page 178
16A 116 دست کوتاہ کو پھر درازی بخش خاکساروں کو سرفرازی بخشن جیت لوں تیرے واسطے سب دل وہ ادا ہائے جاں نوازی بخش پانی کر دے علوم قرآن کو گاؤں گاؤں میں ایک رازی بخش روح خاتوں سے ہو رہی ہے نڈھال ہم کو پھر نعمت حجازی بخش بت مغرب ہے ناز پر مائل اپنے بندوں کو بے نیازی بخش جھوٹ کو چاروں شانے چت کردیں مومنوں کو دہ راستبازی بخش روح الترام و دوربین زنگاه قلب شیرد نگاه بازی بخش پائے اقدس کو چوم ٹوں بڑھ کر مجھ کو تو ایسی پاکبازی بخش سرگرانی میں عمر گذری ہے سروری بخش سرفرازی بخش کفر کی چیرہ دستیوں کو ہٹا دست اسلام کو درازی بخش سید الانبیاء کی انت کو جو ہوں غازی بھی دہ نمازی بخش ہوں جہاں گرد ہم میں پھر پیدا بسند باد اور پھر جہازی بخش میرے محمود بن میرا محمود مجھ کو تو سیرت ایازی بخش اخبار الفضل جلد ۳۲ ۳۰۰ دسمبر ۶۱۹۳۳