کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 302

کلام محمود — Page 137

174 ہے زمیں پرسہ مرا لیکن وہی میجود ہے آنکھ سے او قبل ہے گو دل میں وہی موجود ہے مطلقا غیر از فنا راه بقا مسدود ہے مٹ گیا جو راہ میں اس کی وہی موجود ہے سوچتا کوئی نہیں فردوس کیوں مقصود ہے آرزو باقی ہے لیکن مدعا مفقود ہے شاید اس کے دل میں آیا میری جانب سے غبار آسماں چاروں طرف سے کیوں غبار آلود ہے وہ مرا ہے کا ایک میں ہوں اس کا از ازل مجھ کو کیا خور و جناں سے دُہ مرا مقصود ہے احتیاج اک نقص ہے جلوہ گرمی ہے اک کمال مقتضائے حسن سر شاہد و مشہور ہے بے ہنر کو پوچھتا رہی کون ہے دُنیا میں آج ہے کوئی تو تجھ میں جو ہر تو اگر محمود ہے مانگ پر ہوتی ہے پیداوار چونکہ وہ نہیں جنس تقومی اس لیے دُنیا سے اب مفقود ہے کیوں نہ پاؤں اُس کی درگہ سے جبرا بے حساب ہے میری نیست تو بے حد گو عمل محدد ہے دل کی حالت پر کسی بندے کو ہو گیا اطلاع بس وہی محمود ہے جو اس کے ہاں محمود ہے مدعا ہے میری ہستی کا کہ مانگوں بار بار مقتضا اُن کی طبیعت کا سنخاد جُود ہے باپ کی سنت کو چھوڑا ہو گیا میسر ہوا ابن آدم بارگہ سے اس لیے منظرور ہے جب تملک تدبیر پنجه کش نہ ہو تقدیر سے آرزو بے فائدہ ہے التجا بے سود ہے عشق و بیکاری اکٹھے ہو نہیں سکتے کبھی عرصہ سعی محبتاں تا ابد ممدود ہے از احمدی جنتری شده مطبوعه دسمبر شد *