کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 302

کلام محمود — Page 136

Ar تیرے در پر ہی میری جان نکلے خدایا یہ میرا ارمان نکلے نکل جائے مری جاں خواہ تن سے نہ دل سے پر میرے ایمان نکلے ہوں اک عرصہ سے نوابان اجازت میرے بارے میں بھی فرمان نکلے میرے پاس آئے اللہ بیٹھ جاؤ کہ پہلو سے میرے شیطان نکلے سمجھتا تھا ارادے ساتھ دیں گے مگر وہ بھی یونسی مہمان نکلے مجھے سب رنج و کلفت بھول جائے جو تیری دید کا ارمان نکلے گنوا دی رقشر کی خواہش میں سب عمر دریغا اہم بہت نادان نکلے ہوا کیا سیر عالم کا نتیجہ پریشاں آئے تھے حیران نکلے تیرے ہاتھوں سے اے نفس دنی من جنھیں دیکھا وہی نالان نکلے ٹا دوں جان و مال و آبرو سب جو میرے گھر بھی تو آن نکلے نکلتی ہے میری جاں تو نکل جائے نہ دل سے پر ترا پیکان نکلے نہ پایا دوسرا تجھ سا کوئی بھی زمین و آسماں سب چھان نکلے غضب کا ہے تیرا یہ حسن مخفی جنیں دیکھا ترے خواہان نکلے تری نسبت منے تھے جس قدر عیب وہ سارے جھوٹ اور بہتان نکلے کبھی نکلے نہ دل سے یاد تیری کبھی سر سے نہ تیرا دھیان نکلے نہ کی ہم نے کمی کچھ مانگنے میں مگر تم بخششوں کی کان نکلے سمجھتا تھا کہ ہوں سید مصائب مگر سوچا تو سب احسان نکلے از احمدی جنتری سایه مطبوعہ دسمبر ۹۲