کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 302

کلام محمود — Page 118

JJA نہیں مکن کہ میں زندہ رہوں تم سے جدا ہو کر رہوں گا تیرے قدموں میں ہمیشہ خاک پا ہو کر جو اپنی جان سے بیزار ہو پہلے ہی اے جاناں تمھیں کیا فائدہ ہو کا بھلا اس پر خفا ہو کر ہمیشہ نفس امارہ کی باگیں متام کر رکھیں گرا دے گا یہ سرکش ورنہ تم کو سیخ پا ہوکر علاج عاشق مضطر نہیں ہے کوئی دنیا میں اُسے ہوگی اگر راحت میسر تونٹ ہو کر خدا شاہد ہے اسکی راہ میں سے نے کی خواہش میں میرا ہر ذرہ تن ٹھیک رہا ہے التجا ہو کر پھرایسی کچھ نہیں پر دا کہ دکھ ہو یا کہ راحت ہو رہو دل میں میرے گر مر بھر تم کدھا ہو کر میری حالت پہ جاناں رحم آئے گا ہ کیا تم کو اکیلا چھوڑ دو گے بعد کو کیا تم باوفا ہو کر کہاں ہیں ماتی و بست زا در دیکھیں فن احمد کو دکھایا کیسی خوبی سے شیل مصطفیٰ ہو کر اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۱۹ دسمبر ۲۲اء