کلام محمود — Page 117
ЧА اصل پیغام ! یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو بعض احباب وفا کیش کی تحریروں سے میرے آتے نہیں اور تم پہ کھلا ہے یہ راز تم بھی میدان دلائل کے ہورن بیروں سے تم میں وہ زور وہ طاقت ہے اگر چاہو تو چھلنی کر سکتے ہو تم پشت عدد تیروں سے آزمائش کے لیے تم نے پچھنا ہے مجھ کو پشت پر ٹوٹ پڑے ہو مری شمشیروں سے مجھ کو کیا شکوہ ہو تم سے کہ میرے دشمن ہو تم ٹونی کرتے چلے آئے ہو جب میں سے حق تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں میں یاد ہے وہ بچائے گا مجھے سارے خطا گیروں سے میری غیبت میں لگا لو جو لگانا ہو زور تیر بھی پھینکو کر و حملے بھی شمشیروں سے پھیر لو جتنی جماعت ہے میری بیعت میں باندھ لو ساروں کو تم مکروں کی زنجیروں سے پھر بھی مغلوب رہو گے میرے تایوم السبت ہے یہ تقدیر خداوند کی تقدیروں سے ماننے والے ہرے بڑھ کے رہینگے تم سے یہ قضادہ ہے جو بدلے گی نہ تدبیروں سے مجھ کو حاصل نہ اگر ہوتی جدا کی امداد کب کے تم چھید پچکے ہوتے مجھے تیروں سے ایک تنکے سے بھی بدتر تھی حقیقت میری فضل نے اس کے بنایا مجھے شہتیروں سے تم بھی گر چاہتے ہو کچھ تو جو اس کی طرف فائدہ کیا تھیں اس قسم کی تدبیروں سے نفس طامع بھی کبھی دیکھتا ہے روئے نجات فتح ہوتے ہیں کبھی ملک بھی کف گیری سے تم مرے قتل کو نکلے تو ہو پر غور کرو! شیشے کے ٹکڑوں کو نسبت بھلا کیا ہیں سے جن کی تائید میں مولی ہو انہیں کسی کا ڈر بھی میاد بھی ڈر سکتے ہیں نچیروں سے ۲۴ اخبار الفضل جلد ۱۲- در تمبر ہے حضور نے یہ نظم سید کے سفر یورپ کے دوران کسی تھی۔۱۹۲۴ (ناشر)