کلام محمود — Page 116
46 مید دشکارِ غم ہے تو مسلم خستہ جان کیوں اٹھ گئی سب جہان سے تیرے لیے امان کیوں بیٹھنے کا تو ذکر کیا ، بھاگنے کو جگہ نہیں ہو کے فراغ اس قدر تنگ ہوا جہان کیوں ڈھونڈتے ہیں تبھی کو کیوں سارے جہاں کے مبتلا پیستی ہے تبھی کو ہاں گردش آسمان کیوں کیوں بنیں پہلی رات کا خواب تیری بڑائیاں قتہ ما معنیٰ ہوئی تیری وہ آن بان کیوں ہاتھ میں کیوں نہیں وہ زور بات میں کیوں نہیں اور چھینی گئی ہے سیف کیوں کاٹی گئی زبان کیوں واسطہ جہل سے پڑا وہم ہوار نیستی دہر علم کدھر کو چل دیا جاتا رہا بیان کیوں رہتی ہیں بے شمار کیوں تیری تمام منتیں تیری تمام کوششیں جاتی ہیں رائیگان کیوں سارے جہاں کے ظلم کیوں ٹوٹتے ہیں تبھی پر آج بڑھ گیا ستمبر سے عرصہ امتحان کیوں تیری زمیں سے بہن کیوں ہاتھ میں گبر سنت کے تیری تجارتوں میں ہے صبح دمسازیان کیوں کسب معاش کی رہیں تیری ہر اک گھڑی ہے جب تیر عزیز پھر بھی ہیں فاقوں سے نیم جان کیوں کیوں ہیں یہ تیرے قلب پر گھر کی چیرہ دستیاں دل ہوئی ہے تیرے وفصلت امتنان کیوں خلق ترے کدھر گئے خلق کو جن پہ ناز تھا دل تیرا کیوں بدل گیا بگردی تبرمی زبان کیوں تجد کو اگر خبر نہیں اس کے سبب کی مجھ سے سُن تجھ کو تاؤں میں کہ برگشتہ ہوا جہان کیوں منبع امن کو جو تو چھوڑ کے دور چل دیا تیرے لیے جہان میں امن ہو کیوں مان کیوں ہو کے غلام تو نے جب رسم وداد قطع کی اس کے علامہ ارم میں تجھ پہ ہوں اوران کیوں اخبار الفضل جلد ۱۲ - ۲۳ را گست ۱۹۲۴ به