کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 302

کلام محمود — Page 108

۱۰ 41 میرے مولیٰ مری بگڑی کے بنانیوالے میرے پیارے مجھے فتنوں سے بچا نیوالے جلوہ دکھلا مجھے او پیرہ چھپانے والے رحم کر مجھ پہ اورمنہ پھیر کے جانے والے میں تو بلد نام ہوں میں دم سے ہوتا ہوں عاشق کہ لیں جو دل میں ہو الزام لگانے والے تشنہ لب ہوں بڑی مد سے خُدا شاہد ہے بھرے اک جام تو کوثر کے کٹانے والے ڈالتا جائنگر مر بھی اس نمیگیں پر نظر قہر سے مٹی میں ملانے والے کبھی تو جلوہ بے پردہ سے ٹھنڈک پہنچا سینہ و دل میں میرے آگ لگانے والے مجھ کو تیری ہی قسم کیا یہ دن داری ہے دوستی کر کے مجھے دل سے بھلانے والے کیا نہیں آنکھوں میں اب کچھ بھی مروت باقی مجمد مصیبت زدہ کو آنکھیں دکھانے والے مجھ کو دکھلاتے ہوئے آپ بھی رہ کھو بیٹھے اے جھنر کیسے ہو تم راہ دکھانے والے جعفر ڈھونڈتی ہیں مگر آنکھیں نہیں پاتیں اُن کو میں کہاں کہ مجھے روتے کو ہنسانے والے ساتھ ہی چھوڑ دیا سر بلے شب ظلمت میں ایک آنسو میں لگی دل کی بجھانے والے تا قیامت رہے جاری یہ سخاوت تیری او میرے گنج معارف کے لٹانے والے رہ گئے منہ ہی ترا دیکھتے وقت رحلت ہم پسینہ کی جگہ خون بہانے والے ہو نہ تجھ کو بھی خوشی دونوں جہانوں میں نصیب کوچہ یار کے رستہ کے بھلانے والے ہم تو ہیں شبح و مسا رنج اُٹھانے والے کوئی ہوں گے کہ جو ہیں میں منانے والے مجھ سے بڑھ کر ہے میرا فکر تجھے دامن گیر تیرے قربان میرا بوجھ اٹھانے والے خيار الفضل مینه ۱۰-۲۷ نومبر لله