کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 302

کلام محمود — Page 98

۵۳ یاد جس دل میں ہو اس کی وہ پریشان نہ ہو ذکر جس گھر میں ہو اس کا کبھی ویران نہ ہو عیف اس سر پہ کہ جو تابع فرمان نہ ہو تفف ہے اس دل پر کہ جو ہنڈا احسان نہ ہو مسلم سوختہ دل یو سنی پریشان نہ ہو تجھ پہ اللہ کا سایہ ہے ہراسان نہ ہو وقت حسرت نہیں یہ بہت کوشش کا ہے قت عقل و دانائی سے کچھ کام سے نادان نہ ہو رت افواج خود آتا ہے تری نصرت کو باندھ سے اپنی کمر بندہ حربان نہ ہو اُٹھ کے دشن کے مقابل پر کھڑا ہو جاتو اپنے احبابے ہی دست وگریبان نہ ہو یاد رکھ لیک کہ غلبہ نہ ملے گا جب تک دل میں ایمان نہ ہو ہاتھ میں قرآن نہ ہو اپنے الہام پر نازاں نہ ہو اسے طفل سلوک تیرے بہکانے کو آیا کہیں شیطان نہ ہو کیا یہ ممکن ہے کہ نازل ہو کلام قادر ظاہر اس سے گر اللہ کی کچھ شان نہ ہو تم نے منہ پھیر لیا ان کے اُلٹتے ہی نقاب کیا یہ ممکن ہے کہ دلبر کی بھی پہچان نہ ہو اس میں جو بھول گیا دونوں جہانوں سے گیا کو چہ عشق میں دال کوئی انجان نہ ہو ہجر کے درد کا درماں نہیں ممکن جب تک برگ اعمال نہ ہوں شربت ایمان نہ ہو نہ تو ہے زاد نہ ہمت نہ ہی طاقت نہ رفیق میرے جیسا بھی کوئی بے سرو سامان نہ ہو کس طرح جانیں کہ ہے عشق حقیقی تم کو جبیب پارہ نہ ہو گر چاک گریبان نہ ہو اختبار الفضل - جلد ۷-۲۱ اکتو برسنه