کلام محمود — Page 70
سے اپنی جیسی یہ دولت عطا کی ہمیں توفیق دے صدق و صفا کی ترے چاکر ہوں ہم پانچوں اپنی ہمیں طاقت عطا کر تو دن کی تری خدمت میں پائیں جان و دل کو گھڑی جب چاہے آجائے قضا کی رہیں ہم دُور پر بدکیش و بد رہے محبت ہیں اہلِ دینا کی بنائیں دل کو گلزارِ حقیقت لگائیں شاخ زهد و الفت کی شفا ہوں ہر مریض رُوح کی ہم دوا بن جائیں دردِ لا دوا کی نہ زور و ظلم کے خوگر ہوں یا رب نہ عادت ہم میں ہو جور و بجھا کی محبت تیری دل میں جاگزیں ہو لگی ہو تو ہمیں یاد خدا کی ہمارے کام سب تیرے لیے ہوں اطاعت ہو غرض ہر مدعا کی رسُول اللہ ہمارے پیشوا ہوں بے توفیق اُن کی اقتدا کی دا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ اللَّذِي أَولَى الْأَمَانِي الٹی تو ہمارا پاسباں ہو ہمیں ہر وقت تو راحت رساں ہو تیرے بن زندگی کا کچھ نہیں لطف ہمارے ساتھ پیارے ہر زماں ہو مصیبت میں ہمارا ہو مددگار ہمارے دردِ دل کا راز داں ہو ہیں اپنے لیے مخصوص کرے ہمارے دل میں آگر میاں ہو تجھے جس راہ سے لوگوں نے پایا وہ راز معرفت ہم پر عیاں ہو ہماری موت ہے فرقت میں تیری ہمیشہ ہم پہ تو جلوہ کناں ہو ہمارا حافظ و ناصر ہو ہر دم ہمارے باغ کا تو باغباں ہو کرے اس کی اگر تو آبپاشی تو پھر ممکن نہیں بیم خزاں ہو