کلام محمود — Page 64
دہ قید نفس دنی سے مجھے چھڑائیں گے کب رہائی پنجنہ غم سے مجھے دلائیں گے کب یہ صدمہ ہائے جُدائی انٹا جائیں گے کب دل اور جان میرے اُن کی تاب لا ئینگے کب وہ میرے چاک جگر کا کریں گے کب کہاں جو دل پہ داغ لگے ہیں انہیں بنائینگے کب یونہی تڑپتے تڑپتے نہ دم نکل جائے کوئی یہ پوچھ تو آؤ مجھے بلائیں گے کب خوشی امنی کو ہے زیبا جو صاحب دل میں جو دل میں اب پچکے پھر وہ نہیں نسائینگے کب وفا طریق ہے اُن کا وہ میں بڑے ٹھن لگا کے منہ نظروں سے مجھے گرائینگے کب جو تم نے اُن کو بلانا ہو دل وسیع کرد بڑے وسیع ہیں وہ اس جگہ سمائینگے کب نہیں یہ پوش کہ خود ان کے گھرمیں رہتا ہوں یہ رٹ لگی ہے کہ میرے گھر پہ آئینگے کب یہ میں نے مانا کہ ہے ان کی ذات بے پایاں مگردہ پیتر زیبا مجھے دکھا ئیں گے کب مینت بن چکے مچھی نہیں گے کب میرے وہ مجھ کو مار تو بیٹے ہیں اب چلا ئینگے کب نگاہ چہرہ جاناں پر جاپڑی جن کی پھر اور لوگوں کے انداز ان کو بھا ئینگے کب جو خود ہوں نور جنھیں نور سے محبت ہو غریق بھر ضلالت سے دل بلا ئینگے کب الی آپ کی درگہ سے گر پھر حالی تو پھر جو دشمن جاں ہیں وہ منہ لگا ئینگے کب سُنا ہے خواب میں ممکن ہے رویت جاناں میں منتظر ہوں کہ وہ اب مجھے سلا ئینگے کب اخبار در جلد ۹ - ۹ ربون الله *