کلام محمود — Page 54
۵۴ ۲۹ مجھ سا نہ اس جہاں میں کوئی دلفگار ہو جس کا نہ یار ہو نہ کوئی نگا ر ہو کتنی ہی پل صراط کی گوتیز دھار ہو یا رب میرا وہاں بھی قدیم استوار ہو دل چاہتا ہے طور کا وہ لالہ زار ہو اور آسماں پر جلوہ گناں میرا یار ہو ساتی ہوئے ہو جام ہو ابر بہار ہو اتنی پہیوں کہ حشر کے دن بھی شمار ہو جس سر پہ بھوت عشق ستم کا سوار ہو قسمت یہی ہے اُس کی کہ دنیا میں خوار ہو تقویٰ کی جڑھ میں ہے کہ خالق سے پیارا گو ہا تھ کام میں ہوں مگر دل میں یار ہو دنیا کے عیش اس پہ سراسریں پھر حرام پہلو میں جس کے ایک دلِ بے قرار ہو وہ لطف ہے خلش میں کہ آرام میں نہیں تیز نگاہ کیوں میرے سینہ کے پار ہو رنج فراق گل نہ کبھی ہو سکے بیاں میرے مقابلہ میں ہزاروں ہزار ہو جاں چاہتی ہے تجھ پہ نکلتا ہے میری جہاں دل کی یہ آرزو ہے کہ تجھ پہ نثار ہو کیسا فقیر ہے وہ جو دل کا نہ ہو غنی وہ زار کیا جو رنج و مصیبت سے زار ہو خضر ویسے بھی نہ بیچے جبکہ موت سے پھر زندگی کا اور کسے اعتبار ہو اخبار بدر جلد ۱۳۰۸ مئی شاه