کلام محمود — Page 33
16 ظهور مهدی آخر زماں ہے سنبھل جاؤ کہ وقت امتحاں ہے محمد میرے تن میں مثل جاں ہے یہ ہے مشہور جاں ہے تو یہاں ہے گیا اسلام سے وقت خزاں ہے ہوئی پیدا ہار جاوداں ہے اگر پوچھے کوئی عیسی کہاں ہے تو کہدو اس کا مسکن قادیاں ہے ہر اک دشمن بھی اب طب انساں ہے مرے احمد کی وہ شیریں زباں ہے مقدر اپنے حق میں عز وشاں ہے جو ذلت ہے نصیب دُشمناں ہے میمائے زماں کا یاں مکاں ہے زمین متدیان دارالاماں ہے خدا تجھ پہ میٹھا میری جاں ہے کہ تو ہم بے کسوں کا پاسباں ہے سیما سے کوئی کہہ دو یہ جا کر مریض عشق تیرا نیم جاں ہے نہ پھولو دوستو دنیائے دوں پر کہ اس کی دوستی میں بھی زیاں ہے دو زندگی سے ہمیں ہے سخت نفرت جو دل میں ہے جبیں سے بھی عیاں ہے ترہے اس حال بد کو دیکھ کر قوم جگر ٹکڑے ہے اور دل خوں فشاں ہے جسے کہتی ہے دنیا سنگ پارس مسیحا کا وہ سنگِ آستاں ہے دیا ہے رہنا بڑھ کر بھر سے جدا بھی ہم پر کیا مہرباں ہے اخبار بدر جلد ۲۶۰۶ دسمبر سنه