کلام محمود — Page iv
LE ۳۵ ۴۰ ۴۱ ۴۲ سمسم ۴۵ وم ۴۹ ۵۰ ۵۳ ۵۴ ۵۶ 04 ۵۹ + الا ۶۲ 14 14 A ۲۲ ۲۳ نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں ظہور مہدی آخر زماں ہے مُسند پر ہماری جاں دا ہے باب رحمت خود بخود پھر تم پر وا ہو جائے گا۔یا الہی ! رحم کر اپنا کہ میں بیمار ہوں۔اے میرے مولی بر سرے مالک! میری جاں کی سپر ! کوئی گیسو میرے دل سے پریشاں ہو نہیں سکتا دہ خواب ہی میں گر نظر آتے تو خوب تھا میں نے جس دن سے ہے پیارے تیرا چہرہ دیکھا کیا جانئے کہ دل کو میرے آج کیا ہوا قصہ ہجر ذرا ہوش میں آئوں تو کہوں دہ چہرہ ہر روز ہیں دکھاتے رقیب کو تو چھپا چھپا کر آؤ محمود ! ذرا حال پریشاں کر دیں مجھے سانہ اس جہاں میں کوئی دل فگار ہو ہائے وہ دل کہ جسے طرز وفا یاد نہیں دہ نکات معرفت بتلائے کون مئے عشق خدا میں سخت ہی مخمور رہتا ہوں جگہ دیتے ہیں جب ہم ان کو اپنے سینہ دل میں یہیں سے اگلا جہاں بھی دکھا دیا مجھ کو دل پھٹا جاتا ہے مثل ماہی بے آب کیوں ۲۵ ۲۷ YA ۲۲ ۲۵