کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iii of 302

کلام محمود — Page iii

1 A 1۔۱۳ ۱۵ 14 ۲۱ ۲۲ ۲۴ ۲۵ p۔فہرست اپنے کرم سے بخش دے میرے خدا مجھے پڑھ لیا ترآن عبد الحی نے میاں اسحق کی شادی ہوتی ہے آج اے لوگو یاد ایام کہ تھے ہند پر اندھیر کے سال مثل ہوش اڑ جائیں گے اس زلزلہ آنے کے دن ده قصیدہ میں کروں وصف مسیحا میں رقم غصہ میں بھرا ہوا خُدا ہے جدھر دیکھو ابر گنہ چھا رہا ہے گناہ گاروں کے دردِ دل کی بس اک قرآن ہی دوا ہے دوستو ! ہرگز نہیں یہ ناچ اور گانے کے دن ہر چار سُو ہے شہرہ ہوا قادیان کا اسے مولویو ! کچھ تو کرد خوف خدا کا یوں الگ گوشتہ ویراں میں جو چھوٹا ہم کو کیوں ہو رہا ہے خرم و خوش آج کل جہاں نہ کچھ قوت رہی ہے جسم و جاں میں 9 ۱۲ ۱۴