کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 302

کلام محمود — Page 25

۲۵ یوں الگ گوشتہ ویراں میں جو چھوڑا ہم کو نہیں معلوم کہ کیا قوم نے سمجھا ہم کو کل تلک تو یہ نہ چھوڑے گا کہیں کا ہم کو آج ہی سے جو لگا ہے غیر منڈا ہم کو ہے خدا کی ہی عنایت پہ بھروسہ ہم کو نہ عبادت کا نہ ہے اُحد کا دعوی ہم کو درد اُلفت میں مزہ آتا ہے ایسا ہم کو کہ شفایابی کی خواہش نہیں اصلا ہم کو تجھ پہ رحمت ہو خدا کی کہ سیٹھا تو نے رشتہ الفت دوحدت میں ہے باندھا ہم کو اپنا چہرہ کہیں دکھلائے وہ رب العزت مدتوں سے ہے میں دل میں تم ہم کو گالیاں دشمن دیں ہم کو جو دیتے ہیں تو دیں کام میں صبر وتحمل سے ہے زیب ہم کو یکچھ نہیں فکر لگائی ہے خُدا سے جب نو گو سمجھتا ہے بڑا اپنا پرایا ہم کو ایک تسمہ کی بھی حاجت ہو تو مانگو مجھے سے ہے ہمیشہ سے یہ اُس یار کا ایسا ہم کو زخم دل زخم جگر بنتے ہیں کھل کھیل کر کیوں حالت قوم پہ آتا ہے جو رونا ہم کو کیں مونٹی کی طرح حشر میں ہوش نہ ہوں لگ رہا ہے اسی عالم میں یہ دھٹر کا ہم کو ایک دم کے لیے بھی یاد سے کیوں توڑتے اور محبوب کہاں تجھ سالے گا ہم کو اخبار پدر جلد ۲۳۰۰ مئی شانه