کلام محمود — Page 248
۱۸۲ تصویر کا پہلا رخ مر رہا ہے بھوک کی شدت سے بیچارہ غریب ڈھانکنے گوتن کے گاڑھا تک نہیں اسکو نصیب کھاتے ہیں زردہ پلا دو تور ما دشیر مال مخملی دوشالے اور سے پھرتے ہیں اسکے رقیب تیرے بندے اسے ندا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں اسطبل میں گوئے ہیں بھینسیں بھی ہیں کچھ شہر دار سبنرے کی کثرت سے گھر بھی بن رہا ہے مرغزار لب پر انکے قہتے ہیں اُن کی آنکھوں میں بہار روح انسانی ہے پر خاموش بیٹی سوگوار تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں جب دیا آئے تو پہلے اس سے مرتے ہیں غریب مالداروں کو مگر لگتے ہیں دیکے رہے عجیب موت جس کے پاس ہے ہے وہ تو محروم دوا اور جو محفوظ ہیں ان کو دوائیں ہیں نصیب تیرے بندے اے خُدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں نور قرآن کی تبتی ہے زمانہ بھر میں آج احمد ثانی نے رکھ لی احمد اول کی لاج گھر نے بت توڑ ڈالے زیر کو ویراں کیا پر مسلمانوں کے گھر میں ہے جہالت ہی کا راج تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں اخبار الفضل جلد ۳۱۰۸ دسمبر ۵۳ه ریوه پاکستان