کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 302

کلام محمود — Page 234

149 کیا آپ ہی کو نیزہ چھونا نہیں آتا؟ یا مجھ کو ہی تکلیف میں رونا نہیں آتا حاصل ہو سکون چھوٹوں اگر دامن دلبر دامن کا مگر ہاتھ میں کونا نہیں آتا بھر جاؤں تو اُٹھتے ہوئے طوفانوں سے کن کشتی کو سمندر میں ڈبونا نہیں آتا جو کام کا تھا وقت وہ رو رو کے گزارا اب رونے کا ہے وقت تو رونا نہیں آتا کہتے ہیں کہ مٹ جاتا ہے دھونے سے ہر اک داغ اے وائے مجھے داغ کا دھونا نہیں آتا آجاتے ہو تم یاد تو لگتا ہوں تڑپنے ورنہ کے آرام سے سونا نہیں آتا دامن بھی ہے غفراں کا سمندر بھی ہے موجود دامن کو سمندر میں ڈبونا نہیں آتا ہوتی تو ہیں پر ان کو یہ مرونا نہیں آتا آنسو تو میں آنکھوں میں پر رونا نہیں آتا میں لاکھ جتن کرتا ہوں دل دینے کی خاطر پر اُن کی نگہ میں یہ کھلونا نہیں آتا کیا فائدہ اس در پہ تجھے جانے کالے دل دامن کو جو اسکوں سے بھگونا نہیں آتا کس برتے پہ اُمید رکھوں اُس سے جزا کی کاٹوں گا میں کیا خاک کہ ہونا نہیں آتا اخبار الفضل جلد ۶-۳ جنوری ۵ه - لاہور - پاکستان۔