کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 302

کلام محمود — Page 226

141 سر پر عادی وہ حماقت ہے کہ جاتی ہی نہیں کفرد بدعت سے وہ رغبت ہے کہ جاتی ہی نہیں نہ خُدا سے ہے محبت نہ محمت سے ہے پیار تم کو دہ دیں سے عداوت ہے کہ جاتی ہی نہیں نام اسلام کا ہے گھر کے ہیں کام تمام اس پہ پھر ایسی رعونت ہے کہ جاتی ہی نہیں تم نے سو بار مجھے نیچا دکھانا چاہا پر مرے دل کی مروت ہے کہ جاتی ہی نہیں تم کو مجھ سے ہے عداوت تو مجھے تم ہے سے پیار میری یہ کیسی محبت ہے کہ جاتی ہی نہیں ہر مصیبت میں دیا ساتھ تمہارا لیکن تم کو کچھ ایسی شکایت ہے کہ جاتی ہی نہیں تو یہ بھی ہو گئی مقبول حضوری بھی ہوئی پر مرے دل کی ندامت ہے کہ جاتی ہی نہیں گالیاں کھائیں، پیٹے ، خوب ہی رُسوا بھی ہوئے عشق کی ایسی حلاوت ہے کہ جاتی ہی نہیں کیا ہوا ہاتھ سے اسلام کے نکلی ہو زمیں دل پر وہ اُس کی حکومت ہے کہ جاتی ہی نہیں وسوسے غیر نے ڈالے گئے اپنوں نے فساد میری تیری وہ رفاقت ہے کہ جاتی ہی نہیں غیر بھی بیٹھے ہیں اپنے بھی میں گھیرا ڈالے مجھ میں اور تجھ میں وہ خلوت ہے کہ جاتی ہی نہیں پھینکتے رہتے ہیں اعدار مرے کپڑوں پر گند تو نے دی مجھ کو وہ بہت ہے کہ جاتی ہی نہیں رنج ہو غم ہو کوئی حال ہو خوش رہتا ہوں دل میں کچھ ایسی طراوت ہے کہ جاتی ہی نہیں صدیوں سے ٹوٹ رہا ہے تیری دولت تبال دلیرا تیری وہ ثروت ہے کہ جاتی ہی نہیں گفر نے تیرے گرانے کے لئے لاکھ جتن تیری دہ شان و شوکت ہے کہ جاتی ہی نہیں میں تیری راہ میں مر مر کے جیا ہوں منٹو بار موت سے مجھ کو وہ رغبت ہے کہ جاتی ہی نہیں اخبار المفضل جلد ۱۶۰۵ نومبر سالمه لا ہو ر پاکستان