کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 302

کلام محمود — Page 177

164 114 ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا اس سے بڑھ کر کیا ذریعہ چاہیے اظہار کا فلسفی ہے فلسفہ سے را ز قدرت ڈھونڈتا عاشق صادق ہے جو یاں یار کے دیدار کا عقل پر کیا طالب دنیا کی ہیں پردے پڑے ہے عمارت پر بند منکر مگر معمار کا تیری رہ میں موسسے بڑھ کر نہیں عزت کوئی دار پر سے ہے گذرتا راہ تیرے دار کا فیر کیوں آگاہ ہو راز محبت سے میرے دشمنوں کو کیا پتہ ہو میرے تیرے پیار کا ڈھونڈتا پھرتا ہے کو نہ کو نہ ہی گھر گھر میں کیوں اس طرف آئیں پتہ دوں تجھ کو تیرے یار کا اے خدا کر دے منور سینہ و دل کو میرے سر سے پا تک میں بنوں محنزن تیرے انوار کا سیر کروا دے مجھے تو عالم لاہوت کی کھول دے تو باب مجھ پر روح کے اسرار کا قید و بند عرس میں گردن پھنسائی آپ نے اس حماقت پر ہے دعوی فاعل مختار کا رشتہ الفت میں باندھے جارہے ہیں آج لوگ توڑ بھی کیا فائدہ ہے اس ترے زنار کا فلسفہ بھی را از قدرت بھی رموزِ عشق بھی کیا نرالا ڈھنگ ہے پیارے تری گفتار کا بن رہی ہے آسماں پر ایک پوشاک جدید تانا بانا ٹوٹنے والا ہے اب کفار کا اُن کے ہاتھوں سے تو جام زہر بھی تریاق ہے دو پلائیں گر تو پھر زہرہ کے انکار کا پھٹ گیا ہاتھوں سے میرے دامن میٹر شکیب چل گیا دل پر مرے جادو تری رفتار کا اخبار الفضل جلد ۳۲ - ۱۳ نومبر ۸۳